اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی شورائے کتاب کے سیکریٹری "عباس جعفری" نے ابنا کے کے نمائندے کو بتایا ہے کہ عربی میں لکھی گئی کتاب "المنھج الجديد و الصحيح فى الحوار مع الوھابيين" کا فارسی ترجمہ زیر عنوان "گفتوگوى بىستيز، گامى به سوى تفاھم" (گفتگو نزاع کے بغیر؛ مفاہمت کی طرف ایک قدم ) بقلم "ڈاکٹر عصام يحيى العماد»، بارھویں سالانہ "شیخ طوسی (رح) تحقیقاتی فیسٹیول" کی منتخب کتاب کے عنوان سے متعارف کرائی گئی ہے۔کتاب کا تعارف:الف) کتاب کے کوائف:اس کتاب کے مؤلف "
" شیعیان یمن میں سے ہیں جو وہابی تھے اور تحقیق و مطالعہ کے بعد شیعہ مذہب اختیار کرگئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب کے بارے میں کہتے ہیں: "میرے عقیدے کے مطابق مسلمانوں کے درمیان تقریب اور وحدت صرف اسی وقت عملی صورت اپناسکتی ہے جب گفتگو اور مکالمے کی روش صحیح اور بے نقص ہو اور اگر مسلمانوں کے درمیان گفتگو کے لئے سانچوں کی تشکیل، روشوں میں جدت لانے اور روایتی سانچوں میں تبدیلی لانے کے حوالے سے صحیح روشوں سے استفادہ نہ کیا گیا اور زیادہ کارآمد روشیں بروئے کار نہ لائی گئیں تو نہ صرف وحدت و تقریب کے حوالے سے ہونے والی گفتگو سے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہوسکیں گے بلکہ فاصلے ماضی کی نسبت مزید بڑھ جائیں گے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف زیادہ شدید اور گہرا ہوجائے گا۔ ان کے بقول: اسلامی مذاہب کے درمیان گفتگو کا افق بہت وسیع ہے اور اس کے لئے ایک کھلی فضا رکھنے کی ضرورت ہے چنانچہ مذاکرہ اور مکالمہ یا گفتگو اور ڈائیلاگ، اولاً ایک شیوہ ہے مذاہب کے درمیان تقریب و اتحاد کا، ایک طرف سے شیعہ اور سنی کے درمیان دوسری طرف سے تشیع اور وہابیت اور دیگر سنی مکاتب کے درمیان۔ بے شک اگر تقریب و اتحاد کی خواہش برآوردہ ہوجائے تو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو درپیش عظیم ترین مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ثانیاً مذاکرہ اور مکالمہ ان تمام سازشوں کا سامنا کرنے کا شیوہ ہے جو مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار پھیلانے کے لئے تیار کی گئی ہیں۔ وہ سازشیں جو مسلمانوں کو منتشر گروہوں میں تبدیل کرکے اسلامی معاشرے کو پارہ پارہ کرنا چاہتی ہیں اور آخرکار امت مسلمہ کو ایک بکھرے ہوئے لاشے میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ ڈاکٹر عصام العماد اپنی کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں: یہ کتاب در حقیقت وہابیت اور تشیع کے درمیان گفتگو کے بعض منفی نکتوں کا ازالہ کرنے کی ایک کوشش ہے؛ یہ کتاب گفتگو اور مذاکرے کے 12 سالہ تجربے کا نتیجہ ہے جو میرے اور وہابی علماء کے درمیان جاری رہا ہے اور پھر میں خود ایک طویل عرصے تک وہابیت کے دائرے میں رہا ہوں اور اس کتاب میں میری عمر کا وہ حصہ بھی مؤثر رہا ہے۔ جب میں یمن میں تھا تو بڑے وہابی علماء کے درس میں حاضر ہوا کرتا تھا اور پھر حصول علم کے لئے سعودی عرب چلا گیا؛ میں نہایت متعصب وہابی تھا اور اس عقیدے میں اس حد تک گیا کہ میں نے اہل تشیع کی تکفیر میں کتاب لکھی جس کا نام تھا "الصلة بين الاثنى عشرية و فرقة الغلاة» (تشیع اور غالیوں کے درمیان پیوند)۔ مگر پھر میں نے وہابی مذہب کو ترک کرکے شیعہ مذہب اختیار کیا اور اس حوالے سے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے: "حقائق المذھب الإثنى عشرية أو رحلتى من الوھابية إلى الإثنى عشرية» ؛ (مذہب تشیع کے حقائق و خصوصیات یا میرا سفر وہابیت سے تشیع کی جانب)، اسی بنا پر جب میں وہابیت اور تشیع کے درمیان گفتگو کے بارے میں بات کرتا ہوں درحقیقت ایسے مذہب کے بارے میں گفتگو کررہا ہوتا ہوں جس کا میں خود ایک معصب پیروکار تھا اور فطری امر ہے کہ میں اس مذہب کے ساتھ گفتگو کے لئے بہترین روشوں سے آگہی رکھتا ہوں"۔
ب ۔ کتاب کی فہرست:1ـ مذہب تشیع وہابیوں کے سامنے کیونکر پیش کریں؟؛2ـ پہلا مرحلہ: مذہب تشیع کی انتسابی شناخت؛3ـ شیعہ مذہب کی خصوصیات؛4ـ وہابیت کے مسئلۂ خلط کے منفی اثرات؛5ـ آٹھ غلطیوں کا آخری نتیحہ؛6ـ مسئلہ خلط کی پیدائش کے اسباب و علل اور مسئلہ خلط کی گہرائی؛7ـ پہلا عامل: غلو کے معنی سے عدم آگہی؛8ـ لفظ "غلو" کی مفہومی رواج کے خطرناک نتائج؛9ـ شيخ محمد بن عبدالوہاب ؛ تنقیدی جائزہ اندر سے؛10ـ خلط وہابیت کے مسئلے کے تیسرے سبب کے خلاصے کی ایک تصویر؛11ـ پہلا مرحلہ: غالیوں کے بت پرستانہ تصورات کے مقابلے میں اثنی عشری اہل تشیع کا موقف؛12ـ دوسرا مرحلہ: شیعہ اثنی عشری مذہب کی تجزیاتی شناخت؛13ـ تیسرا مرحلہ: اثنی عشری مذہب کی بنیادی شناخت؛14ـ اختتام کتاب: شیعہ اثنی عشری مذہب کا مستقبل؛15ـ مصادر و منابع و مأخذ کی فہرست؛
/110.....................قابل ذکر ہے کہ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی شورائے کتاب کے تینتیسویں اجلاس میں اس کتاب کے مختلف زبانوں میں اس کتاب کے تراجم کی تجویز منظور کرلی گئی تھی جن میں فارسی زبان شامل نہیں تھی۔ اس کتاب کے اردو، چینی اور روسی زبان میں تراجم شائع ہوچکے ہیں اور فرانسیسی اور انگریزی تراجم پر کام شروع ہوچکا ہے۔